عوامی مینڈیٹ گتھم گتھا۔

 27ستمبر کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جس پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ آپس میں گتم گتھا ہونے جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی کے پی کے میں حکومت ہے اور ان کے سابقہ ریکارڈ سے یہ پوری طرح ثابت ہے کہ وہ حکومتی سربراہی میں وہاں سے ایسے احتجاجوں میں شرکت کے لئے آتے ہیں اور پھر مرکزی سطح پر عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت ان کو انتظامی امور کی بجا آوری کے حق کے تحت روکنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اور پہلے بھی کئی دفعہ ایسے مواقعوں پر عوامی، سیاسی اور جمہوری حقوق اور امن عامہ کی ذمہ داریوں کے نام پر لاٹھی چارج  اور انسانی خون بہا ہے زندگیاں گئی ہیں لیکن یہ حقوق اور ذمہ داریوں کی روائتی سیاست اور حکومت کا عمل اپنی جگہ پر جاری ہے۔
ایسے موقعوں پر عوام شعور کا بھی بہت بڑا کردار ہوتا ہے جس کا انحصار ان کی تعلیم اور کردار سازی پر ہوتا ہے کہ وہ کتنے پر امن رہتے ہیں، احتجاج کے مقاصد ان پر واضح ہوں اور وہ خالصتاً ملک و قوم کی جلاح کے لئے نکلے ہوں۔
ہمارے خطے میں کچھ عرصہ کے دوران بہت ساری ایسی تحاریک شروع ہوئیں جن کے نتائج ہمارے سامنے ہیں جن میں بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی اور ہندوستان میں حکومت پر دباؤ جس سے پچھلے دنوں وزیر تعلیم کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ فرق کیا ہے؟ وہاں وہ تحریکیں غیر جانبدار تھیں اور ان کے مقاصد واضح اور ملک و قوم کی فلاح کے لئے تھے تو عوام نے ان کا ساتھ دیا اور وہ کامیاب ہو گئے۔ یہاں بھی ایسے ہی ماڈل اپنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نہ تو مقاصد واضح ہوتے ہیں اور نہ ہی غیر جانبداری ہوتی ہے اور نہ ہی عوام کی اس قدر حمائت ملتی ہے جس سے تبدیلی کو ممکن بنایا جا سکے۔


No comments:

Post a Comment