پی ٹی آئی کے احتجاج سے نقصان اور اسلام آباد کے امن عامہ کی خرابی کے خدشات کے تحت اس احتجاج کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا اور اس پر کل عدالتی وضاحت اور ہدایات جاری ہوئیں جو بنیادی حقوق کے استعمال اور ان کے تحفظ کی تشریح میں جاری کی گئیں۔ جس کے تحت کوئی سرکاری عہدیدار سرکاری املاک کا ستعمال نہیں کر سکتا اور کسی سرکاری ملازم کو اس میں شرکت کے لئے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح اسلام آباد کے شہریوں کی آزادی اور ان کی کارروباری سرگرمیوں میں خلل کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تشریح انتہائی اہم ہے کیونکہ انسانی حقوق صرف احتجاج میں شامل ہونے والوں کے ہی نہیں ہوتے بلکہ عام شہریوں کے بھی ہوتے ہیں جن کی احتجاج کے جمہوری حق کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ جو ایک سیاسی شعور کی آگہی کی اچھی مثال ہے مگر اس کا خیال حکومت میں شامل جماعتوں کو بھی کرنا چاہیے کہ وہ بھی ہر ایک کے حق کا خیال رکھیں خواہ وہ عام آدمی ہو یا اپوزیشن میں شامل کوئی سیاسی قیادت یا کارکن اور اس کا خیال ہر سطح پر کیا جانا چاہیے۔
عوامی مینڈیٹ گتھم گتھا۔
27ستمبر کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جس پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ آپس میں گتم گتھا ہونے جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی کے پی کے میں حکومت ہے اور ان کے سابقہ ریکارڈ سے یہ پوری طرح ثابت ہے کہ وہ حکومتی سربراہی میں وہاں سے ایسے احتجاجوں میں شرکت کے لئے آتے ہیں اور پھر مرکزی سطح پر عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت ان کو انتظامی امور کی بجا آوری کے حق کے تحت روکنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اور پہلے بھی کئی دفعہ ایسے مواقعوں پر عوامی، سیاسی اور جمہوری حقوق اور امن عامہ کی ذمہ داریوں کے نام پر لاٹھی چارج اور انسانی خون بہا ہے زندگیاں گئی ہیں لیکن یہ حقوق اور ذمہ داریوں کی روائتی سیاست اور حکومت کا عمل اپنی جگہ پر جاری ہے۔
ایسے موقعوں پر عوام شعور کا بھی بہت بڑا کردار ہوتا ہے جس کا انحصار ان کی تعلیم اور کردار سازی پر ہوتا ہے کہ وہ کتنے پر امن رہتے ہیں، احتجاج کے مقاصد ان پر واضح ہوں اور وہ خالصتاً ملک و قوم کی جلاح کے لئے نکلے ہوں۔
ہمارے خطے میں کچھ عرصہ کے دوران بہت ساری ایسی تحاریک شروع ہوئیں جن کے نتائج ہمارے سامنے ہیں جن میں بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی اور ہندوستان میں حکومت پر دباؤ جس سے پچھلے دنوں وزیر تعلیم کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ فرق کیا ہے؟ وہاں وہ تحریکیں غیر جانبدار تھیں اور ان کے مقاصد واضح اور ملک و قوم کی فلاح کے لئے تھے تو عوام نے ان کا ساتھ دیا اور وہ کامیاب ہو گئے۔ یہاں بھی ایسے ہی ماڈل اپنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نہ تو مقاصد واضح ہوتے ہیں اور نہ ہی غیر جانبداری ہوتی ہے اور نہ ہی عوام کی اس قدر حمائت ملتی ہے جس سے تبدیلی کو ممکن بنایا جا سکے۔
جمائما خان کی شادی پر چند معروضی، شرعی اور عوامی سوالات
اطلاعات مل رہی ہیں کہ جمائما خان نے شادی کر لی ہے جو ان کا ذاتی معاملہ ہے مگر ان کے سلیبرٹی ہونے اور عمران خان کی سابقہ بیوی ہونے پر چند عوامی ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں کا احاطہ کرنا بھی عوامی آگہی کا حق ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے عمران خان کے ساتھ شادی کے وقت اسلام قبول کیا تھا تو پھر ابھی کی ان کی شادی غیر مسلم سے ہونے پر سوال کھڑا ہو سکتا ہے اگر وہ ایک دفہ مسلماں ہو کر دوبارہ اسلام چھوڑ چکی ہوں تو بھی سوال اٹھنا لازمی ہے۔ 1995 میں انکی شادی کے وقت ان کا اسلام قبول کرنے کی میڈیا اور ویکیپیڈیا رپورٹس آج بھی موجود ہیں اس وقت چونکہ پاکستان کے ایک جید عالم اپوزیشن کے اتحاد کی قیادت بھی کر رہے ہیں جس میں پی ٹی آئی بھی انکے زیر سایہ اپنا عوامی مینڈیٹ استعمال کرتے ہوئے اپنا جمہوری کرادار ادا کر رہی ہے تو اس ضمن میں ان سے بھی کوئی صحافی سوال کر سکتا ہے اور اگر عمراں خان نے ان سے اہل کتاب کی حیثیت میں شادی کی ہوتی تو پھر سوال نہیں بنتا تھا جو کہ جائز ہوتی۔ لیکن اس وقت چونکہ انہوں نے باقائدہ اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس پر مذہبی نقطہ نظر سے عالمی سطح پر سوال اٹھ سکتے ہیں جن کو بہرحال ایک سلیبرٹی ہونے کے ناطے جمائما خان کو ایڈریس کرنا ہی پڑے گا اور اس پر عمران خان سے سوال نہ بھی ہو تو ان کے بیٹوں ۔سے بھی مختلف فورمز پر سوال ہو سکتے ہیں۔ ہاں عمران خان سے ان کے مسلمان ہونے کی گواہی کے متعلق سوال کیا جا سکتا ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)