اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات اور بنیادی حقوق کی تشریح

پی ٹی آئی کے احتجاج سے نقصان اور اسلام آباد کے امن عامہ کی خرابی کے خدشات کے تحت اس احتجاج کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا اور اس پر کل عدالتی وضاحت اور ہدایات جاری ہوئیں جو بنیادی حقوق کے استعمال اور ان کے تحفظ کی تشریح میں جاری کی گئیں۔ جس کے تحت کوئی سرکاری عہدیدار سرکاری املاک کا ستعمال نہیں کر سکتا اور کسی سرکاری ملازم کو اس میں شرکت کے لئے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح اسلام آباد کے شہریوں کی آزادی اور ان کی کارروباری سرگرمیوں میں خلل کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تشریح انتہائی اہم ہے کیونکہ انسانی حقوق صرف احتجاج میں شامل ہونے والوں کے ہی نہیں ہوتے بلکہ عام شہریوں کے بھی ہوتے ہیں جن کی احتجاج کے جمہوری حق کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ جو ایک سیاسی شعور کی آگہی کی اچھی مثال ہے مگر اس کا خیال حکومت میں شامل جماعتوں کو بھی کرنا چاہیے کہ وہ بھی ہر ایک کے حق کا خیال رکھیں خواہ وہ عام آدمی ہو یا اپوزیشن میں شامل کوئی سیاسی قیادت یا کارکن اور اس کا خیال ہر سطح پر کیا جانا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment