جمائما خان کی شادی پر چند معروضی، شرعی اور عوامی سوالات

اطلاعات مل رہی ہیں کہ جمائما خان نے شادی کر لی ہے جو ان کا ذاتی معاملہ ہے مگر ان کے سلیبرٹی ہونے اور عمران خان کی سابقہ بیوی ہونے پر چند عوامی ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں کا احاطہ کرنا  بھی عوامی آگہی کا حق ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے عمران خان کے ساتھ شادی کے وقت اسلام قبول کیا تھا تو پھر ابھی کی ان کی شادی غیر مسلم سے ہونے پر سوال کھڑا ہو سکتا ہے اگر وہ ایک دفہ مسلماں ہو کر دوبارہ اسلام چھوڑ چکی ہوں تو بھی سوال اٹھنا لازمی ہے۔ 1995 میں انکی شادی کے وقت ان کا اسلام قبول کرنے کی میڈیا اور ویکیپیڈیا رپورٹس آج بھی موجود ہیں اس وقت چونکہ پاکستان کے ایک جید عالم اپوزیشن کے اتحاد کی قیادت بھی کر رہے ہیں جس میں پی ٹی آئی بھی انکے زیر سایہ اپنا عوامی مینڈیٹ استعمال کرتے ہوئے اپنا جمہوری کرادار ادا کر رہی ہے تو اس ضمن میں ان سے بھی کوئی صحافی سوال کر سکتا ہے اور اگر عمراں خان نے ان سے اہل کتاب کی حیثیت میں شادی کی ہوتی تو پھر سوال نہیں بنتا تھا جو کہ جائز ہوتی۔ لیکن اس وقت چونکہ انہوں نے باقائدہ اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس پر مذہبی نقطہ نظر سے عالمی سطح پر سوال اٹھ سکتے ہیں جن کو بہرحال ایک سلیبرٹی ہونے کے ناطے جمائما خان کو ایڈریس کرنا ہی پڑے گا اور اس پر عمران خان سے سوال نہ بھی ہو تو ان کے بیٹوں ۔سے بھی مختلف فورمز پر سوال ہو سکتے ہیں۔ ہاں عمران خان سے ان کے مسلمان ہونے کی گواہی کے متعلق سوال کیا جا سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment